حدیث ۲۰۸۵
صحیح مسلم : ۲۰۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۸۵
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ " ، قَالَتْ : وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ : فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 " .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب جھونکے کی آندھی آتی تو «اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ» پڑھتے یعنی ”یا اللہ! میں اس ہوا کی بہتری مانگتا ہوں اور جو اس کے اندر ہے اس کی بہتری۔ اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کی بہتری اور پناہ مانگتا ہوں اس کی برائی سے اور جو اس کے اندر ہے اور اس کی برائی سے اور جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے اس کی برائی سے۔“ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب آسمان پر بدلی اور بجلی کڑکتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور باہر نکلتے اور اندر آتے اور آگے آتے اور پیچھے جاتے۔ پھر اگر مینہ برسنے لگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھبراہٹ جاتی رہتی۔ غرض اس بات کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہچانا اور آپ سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو جیسے عاد کی قوم نے دیکھ کر کہ بدلی ہے جو ان کے آگے آئی ہے، کہنے لگے کہ یہ بدلی ہم پر برسنے والی ہے۔“
