صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۴ - آندھی، بدلی اور بارش کی رحمت
بارش رحمت ہے: آندھی اور بدلی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال
صحیح مسلم : ۲۰۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۸۴
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي " ، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ : " رَحْمَةٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جب آندھی اور بدلی کا دن ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوف معلوم ہوتا (یعنی عذاب الہٰی سے ڈرتے) اور گھڑی آگے جاتے، گھڑی پیچھے۔ پھر اگر مینہ برس گیا تو خوش ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوف جاتا رہتا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ڈرتا ہوں کہ شاید یہ کوئی عذاب نہ ہو جو اللہ نے میری امت پر بھیجا ہو۔“ اور جب مینہ دیکھتے تو فرماتے: ”یہ رحمت ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۰۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بارش رحمت ہے کے پیغام کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ جب آندھی اور بدلی کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوف ظاہر ہوتا۔ آپ کبھی آگے جاتے، کبھی پیچھے آتے۔ پھر جب بارش ہو جاتی تو خوش ہو جاتے اور وہ خوف ختم ہو جاتا۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ میری امت پر بھیجا گیا عذاب نہ ہو۔ اور جب بارش دیکھتے تو فرماتے: یہ رحمت ہے۔ اس روایت میں آندھی کی حدیث، بادل کی حدیث، اور بارش رحمت ہے جیسے اہم الفاظ آتے ہیں، مگر اصل بات اللہ سے ڈر اور اس کی رحمت کی امید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بادل اور آندھی دیکھ کر اللہ سے ڈرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- بارش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت فرمایا۔
- موسم بدلنے پر دل میں غفلت کے بجائے اللہ کی یاد ہونی چاہیے۔
