صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۴ - غرور کے بغیر کپڑا لٹکنا
تکبر اور لباس کی حدیث: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سوال
صحیح بخاری : ۵۷۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۷۸۴
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَحَدَ شِقَّيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي إِلَّا أَنْ أَتَعَاهَدَ ذَلِكَ مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ " .
´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۵۷۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث لباس اور تکبر کے موضوع کو بہت صاف کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کرے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے تہبند کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے، مگر یہ کہ میں خاص خیال رکھوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔ اس حدیث میں خیلاء یعنی تکبر کو اصل وجہ بتایا گیا ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ وعید سن کر اپنے بارے میں فکر کرتے تھے اور وضاحت پوچھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکبر سے کپڑا گھسیٹنا سخت وعید کا باعث ہے۔
- بغیر تکبر کے پیش آنے والی صورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ بتایا۔
- دینی بات سمجھ نہ آئے تو ادب سے سوال کرنا چاہیے۔
