صحیح بخاری حدیث ۵۸۲ - طلوع و غروب کے انتظار میں نماز نہ پڑھو
طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نماز کا حکم
صحیح بخاری : ۵۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے ممنوع اوقات کو مختصر مگر صاف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھنے کے لیے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے انتظار میں نہ بیٹھو۔ یعنی آدمی جان بوجھ کر اپنی نماز کو اس وقت پر نہ رکھے جب سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو۔ عام فہم لفظوں میں بات یہ ہے کہ عبادت میں جلد بازی یا اپنی پسند کا وقت کافی نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی حد بھی دیکھی جائے گی۔ طلوع آفتاب کے وقت نماز اور غروب آفتاب کے وقت نماز کے بارے میں یہ حدیث خاص رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج نکلنے کے عین وقت نماز کا ارادہ کر کے انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
- سورج ڈوبنے کے عین وقت بھی نماز کو خاص نہیں کرنا چاہیے۔
- نماز کا وقت اپنی مرضی کے بجائے نبوی ہدایت کے مطابق رکھا جائے۔
- عبادت میں احتیاط وقت کی پہچان سے شروع ہوتی ہے۔
