صحیح بخاری حدیث ۵۸۳ - سورج کے کنارے پر نماز مؤخر کرو
سورج کے طلوع و غروب پر نماز مؤخر کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۳
وَقَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ " ، تَابَعَهُ عَبْدَةُ .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب سورج کا اوپر کا کنارہ طلوع ہونے لگے تو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ اور جب سورج ڈوبنے لگے اس وقت بھی نماز نہ پڑھو، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔ اس حدیث کو یحییٰ بن سعید قطان کے ساتھ عبدہ بن سلیمان نے بھی روایت کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کے بارے میں واضح طریقہ بتایا۔ فرمایا کہ جب سورج کا اوپر والا کنارہ طلوع ہونے لگے تو نماز کو مؤخر کرو، یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ اسی طرح جب سورج ڈوبنے لگے تو نماز مؤخر کرو، یہاں تک کہ وہ غروب ہو جائے۔ اس حدیث میں منع شدہ اوقات نماز کی حد سمجھ میں آتی ہے۔ صرف یہ نہیں کہا گیا کہ فجر یا عصر کے بعد رکنا ہے، بلکہ سورج کے کنارے کے ظاہر ہونے اور غائب ہونے کا وقت بھی بتایا گیا۔ اس لیے طلوع آفتاب کے وقت نماز اور غروب آفتاب کے وقت نماز کے مسئلے میں یہ روایت بہت واضح ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورج نکلنے کے شروع ہوتے ہی نماز روکنے کی ہدایت ہے۔
- سورج ڈوبنے کے وقت نماز کو مؤخر کرنے کا حکم ہے۔
- وقت کی باریک پہچان نماز کے آداب میں شامل ہے۔
- حدیث میں سورج بلند ہونے اور مکمل غروب ہونے تک انتظار کا ذکر ہے۔
