صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۴ - نومولود کی تحنیک
تحنیک کی حدیث: نومولود کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لانا
صحیح بخاری : ۵۸۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۲۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ ، قَالَتْ لِي : يَا أَنَسُ انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ ، فَغَدَوْتُ بِهِ ، فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ حُرَيْثِيَّةٌ ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ " .
انس روایت:
جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا اس کے منہ میں ڈالیں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية») تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع تحنیک اور نومولود بچہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے کہا کہ اس بچے کو دیکھتے رہو، اس کے پیٹ میں کوئی چیز نہ جائے، اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تحنیک فرمائیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بچے کو لے کر گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے، آپ کے جسم پر بنی حریث کی چادر تھی، اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔ یہ حدیث تحنیک، نومولود، ام سلیم، اور انس رضی اللہ عنہ کے واقعے سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نومولود بچے کو تحنیک کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا۔
- ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچے کے بارے میں خاص احتیاط کی۔
- روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس اور ایک عمل کا بھی ذکر ہے۔
