صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۶ - جنت کی نعمتیں دنیا سے بہتر
جنت کی نعمتیں: سعد بن معاذ کے رومال ریشم سے بہتر
صحیح بخاری : ۵۸۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۳۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِيرٍ ، فَجَعَلْنَا نَلْمُسُهُ وَنَتَعَجَّبُ مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا ؟ " قُلْنَا ، نَعَمْ ، قَالَ : " مَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " .
براء روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی (نرمی و ملائمت پر) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی اچھے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جنت ہے۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ کیا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی بہتر ہیں۔ اس حدیث میں دنیا کے خوبصورت اور نرم کپڑے کا ذکر ہے، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کا رخ جنت کی نعمتوں کی طرف موڑ دیا۔ جنت کی نعمتیں، سعد بن معاذ، ریشم کا کپڑا، دنیا اور آخرت کی نعمتیں اور جنت کے رومال اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ اس حدیث سے سادہ بات سمجھ آتی ہے کہ دنیا کی اعلیٰ چیز بھی جنت کی نعمت کے مقابلے میں کم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی خوبصورت چیزیں جنت کی نعمتوں کے مقابلے میں کم ہیں۔
- نبی صلى الله عليه وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آخرت کی طرف متوجہ فرماتے تھے۔
- سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی نعمت کا ذکر آیا ہے۔
- دنیا کی چیز پر حیرت ہو تو آخرت کی نعمت کو یاد کرنا چاہیے۔
