صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۸ - نماز ایسے پڑھو جیسے نبی صلى الله عليه وسلم نے پڑھائی
نماز کا صحیح طریقہ: جیسے نبی صلى الله عليه وسلم نے نماز پڑھی
صحیح بخاری : ۶۰۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۰۸
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَظَنَّ أَنَّا اشْتَقْنَا أَهْلَنَا ، وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَفِيقًا رَحِيمًا ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
ابوسلیمان مالک بن حویرث روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان اور ہم عمر تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیس دنوں تک رہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیال ہوا کہ ہمیں اپنے گھر کے لوگ یاد آ رہے ہوں گے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ان کے متعلق پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں پر چھوڑ کر آئے تھے۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا حال سنا دیا۔ آپ بڑے ہی نرم خو اور بڑے رحم کرنے والے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور اپنے ملک والوں کو دین سکھاؤ اور بتاؤ اور تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک شخص تمہارے لیے اذان دے پھر جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز، دین کی تعلیم اور گھر والوں کی فکر سے متعلق بہت اہم بات سکھاتی ہے۔ چند نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بیس دن آپ کے ساتھ رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ انہیں اپنے گھر والوں کی یاد آ رہی ہوگی، اس لیے آپ نے نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے گھر والوں کے بارے میں پوچھا۔ پھر فرمایا کہ اپنے گھروں کو واپس جاؤ، اپنے لوگوں کو دین سکھاؤ، انہیں حکم دو، اور نماز ایسے پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک اذان دے، پھر جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین سیکھ کر آگے پہنچایا جائے، نماز کا طریقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا جائے، اور جماعت میں نظم رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین سیکھنے کے بعد گھر والوں اور قوم کو سکھانا چاہیے۔
- نماز کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔
- نماز کے وقت اذان کا اہتمام کیا جائے۔
- جماعت میں امامت کے لیے بڑے کو آگے کیا گیا۔
