صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۰ - ہدیہ پہلے کس پڑوسی کو دیں؟

پڑوسی کو ہدیہ دینے کا اصول: قریب دروازے والا پہلے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۲۰

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ : " إِنَّ لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ : إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بابا " .

عائشہ روایت:

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری پڑوسنیں ہیں (اگر ہدیہ ایک ہو تو) میں ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا دروازہ تم سے (تمہارے دروازے سے) زیادہ قریب ہو۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں پڑوسی کو ہدیہ دینے کے بارے میں ایک عملی رہنمائی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ میری دو پڑوسنیں ہیں، اگر ہدیہ دینا ہو تو کس کے پاس بھیجوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ایک سے زیادہ پڑوسی ہوں اور ہدیہ ایک ہو، تو قریب ترین پڑوسی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ یہاں اصل بات پڑوسی کے تعلق، قربت اور روزمرہ میل جول سے متعلق ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دین چھوٹے گھریلو سوالات میں بھی سادہ رہنمائی دیتا ہے۔ پڑوسی کو ہدیہ دینا محبت بڑھانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے، اور قریب والے پڑوسی کا حق زیادہ فوری ہو سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہدیہ دیتے وقت قریب ترین پڑوسی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
  • پڑوسی کے ساتھ تعلق میں قربت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
  • گھریلو معاملات میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان رہنمائی دی۔
  • ہدیہ پڑوسیوں کے درمیان محبت کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں