صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۱ - جنت والوں کی عاجزی اور دوزخ والوں کا تکبر

تواضع کی حدیث: جنت والوں اور متکبر لوگوں کی پہچان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَاعِفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ، كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ " .

حارثہ بن وہب خزاعی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں۔ ہر کمزور و تواضع کرنے والا اگر وہ (اللہ کا نام لے کر) قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں ہر تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت والوں اور دوزخ والوں کی ایک پہچان بیان فرمائی۔ جنت والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ کمزور اور تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں؛ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے۔ دوسری طرف دوزخ والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ تند خو، اکڑ کر چلنے والے اور متکبر ہوتے ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع تواضع اور تکبر ہے۔ یہاں کمزور سے مراد ایسا آدمی سمجھ آتا ہے جو دنیاوی اکڑ نہیں دکھاتا، خود کو بڑا نہیں سمجھتا، اور عاجزی رکھتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کی قیمت ظاہری رعب، مال یا اکڑ سے نہیں بنتی؛ اصل اہمیت عاجزی اور درست اخلاق کی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تواضع اور عاجزی اللہ کے پسندیدہ بندوں کی نشانیوں میں سے ہیں۔
  • اکڑ، سخت مزاجی اور تکبر انسان کے لیے نقصان دہ رویے ہیں۔
  • ظاہری کمزوری کسی انسان کی اصل قدر کم نہیں کرتی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں