صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۲ - نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی عاجزی اور حسن اخلاق

حسن اخلاق کی حدیث: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی سادگی اور عاجزی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۷۲

وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا ایک بہت آسان مگر گہرا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ مدینہ کی لونڈیوں میں سے کوئی لونڈی آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کام کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی۔ اس حدیث کا اصل موضوع حسن اخلاق، تواضع اور لوگوں کے کام آنا ہے۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی صاف نظر آتی ہے کہ آپ اپنے مقام کے باوجود عام اور کمزور لوگوں کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ یہاں کوئی لمبی تقریر نہیں، صرف ایک عمل ہے جو بتاتا ہے کہ اچھا اخلاق صرف باتوں سے نہیں بنتا۔ لوگوں کو وقت دینا، ان کی بات سننا اور ان کے کام میں ساتھ دینا بھی اخلاق کا حصہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بڑائی کا مقام انسان کو عام لوگوں سے دور نہیں کرنا چاہیے۔
  • کمزور اور ضرورت مند لوگوں کی بات سننا حسن اخلاق ہے۔
  • اچھا اخلاق عملی رویے سے ظاہر ہوتا ہے، صرف الفاظ سے نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں