صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۶ - ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کے اوقات
نماز کے اوقات کی حدیث: ہر نماز کی حد کیا ہے؟
صحیح مسلم : ۱۳۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَاسْمَهْ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ الأَزْدِيُّ ، وَيُقَالُ : الْمَرَاغِيُّ وَالْمَرَاغ : حَيٌّ مِنَ الأَزْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَقْتُ الظُّهْرِ ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ ، مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ ، مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَوَقْتُ الْفَجْرِ ، مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کا وقت باقی رہتا ہے جب تک کہ عصر کا وقت آئے (یعنی آفتاب کا سایہ ایک مثل ہو جائے) اور عصر کا وقت مستحب باقی رہتا ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہو، وقت مغرب کا باقی رہتا ہے جب تک کہ شفق کی تیزی نہ جائے اور وقت مستحب عشاء کا باقی رہتا ہے جب تک کہ آدھی رات نہ ہو اور وقت فجر کا باقی رہتا ہے جب کہ آفتاب نہ نکلے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نماز کے اوقات کو الگ الگ بیان کیا۔ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب عصر حاضر نہ ہو۔ عصر کا وقت سورج زرد ہونے سے پہلے تک ہے۔ مغرب کا وقت شفق کے ختم ہونے تک ہے۔ عشاء کا وقت آدھی رات تک بتایا گیا، اور فجر کا وقت سورج نکلنے سے پہلے تک ہے۔ یہ بیان بہت عملی ہے، کیونکہ اس میں مشکل اصطلاحات نہیں بلکہ روزانہ دیکھی جانے والی نشانیاں ہیں۔ “وقت نماز حدیث” یا “پانچ نمازوں کے اوقات” تلاش کرنے والا شخص اس روایت سے اصل بات سمجھ سکتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نماز کا وقت کھلتا بھی ہے اور ختم بھی ہوتا ہے، اس لیے مسلمان کو وقت سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر کا وقت عصر آنے تک بتایا گیا ہے۔
- عصر کے لیے سورج کے زرد ہونے سے پہلے تک کا وقت بیان ہوا ہے۔
- فجر کا وقت سورج نکلنے سے پہلے تک ہے۔
