صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۷ - اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے

اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے: توحید کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ ، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی شعراء کے کلام میں سے سچا کلمہ لبید کا مصرعہ ہے جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ ہے سب معدوم و فنا ہونے والا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت شاعر تو قریب تھا کہ مسلمان ہو جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع توحید اور دنیا کی حقیقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاعروں کے کلام میں سب سے سچا کلمہ لبید کا یہ مصرعہ ہے: اللہ کے سوا جو کچھ ہے، سب معدوم اور فنا ہونے والا ہے۔ اس حدیث میں شعر کی تعریف صرف اس لیے آئی ہے کہ اس میں حق بات کہی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز بدلنے والی ہے، ختم ہونے والی ہے، باقی رہنے والی ذات صرف اللہ کی ہے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا، مال، نام، طاقت اور شہرت کو آخری سہارا نہ سمجھو۔ اصل بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے۔ یہی اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے والی حدیث کا بنیادی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سچی بات اگر شعر میں بھی ہو تو اسے حق مانا جا سکتا ہے۔
  • اللہ کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
  • دنیا کی چیزوں کو مستقل سہارا سمجھنا درست سوچ نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں