صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۶ - راہِ اللہ میں تکلیف پر صبر

راہِ اللہ میں زخم پر صبر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۶

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا ، يَقُولُ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ : " هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ " .

جندب بن عبداللہ بجلی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی ... کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع راہِ اللہ میں تکلیف پر صبر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے، پتھر سے ٹھوکر لگی، آپ گر پڑے اور انگلی سے خون بہا۔ اس موقع پر آپ نے ایک شعر پڑھا جس میں اپنی زخمی انگلی سے خطاب کیا کہ تو صرف ایک انگلی ہے جو زخمی ہوئی، اور جو کچھ تجھے پہنچا وہ اللہ کی راہ میں پہنچا۔ اس سے بات سمجھ آتی ہے کہ مومن تکلیف کو صرف درد کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ نیکی کے کام میں آنے والی آزمائش کو اللہ سے جوڑ کر دیکھتا ہے۔ یہاں مبالغہ نہیں، بلکہ سادہ سبق ہے: مشکل آئے تو زبان پر شکوہ کم اور صبر زیادہ ہو۔ یہی راہِ اللہ میں صبر کی حدیث کا اصل پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیکی کے راستے میں آنے والی تکلیف پر صبر کرنا چاہیے۔
  • اپنی تکلیف کو اللہ کی راہ کے کام کے سامنے بہت بڑا بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
  • مشکل وقت میں زبان سے ایسی بات نکلنی چاہیے جو ایمان اور حوصلہ بڑھائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں