صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۵ - شعر میں حکمت

شعر میں حکمت کی حدیث: اچھی بات شعر میں بھی ہو سکتی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً " .

ابی بن کعب روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۵ کا خلاصہ

یہ شعر میں حکمت کی حدیث ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر بات واضح ہے کہ ہر شعر کو ایک ہی حکم میں نہیں رکھا گیا۔ کچھ اشعار ایسے ہو سکتے ہیں جن میں اچھی بات، سمجھ، نصیحت یا دانائی موجود ہو۔ متن میں لفظ بعض آیا ہے، اس لیے اسے ہر شعر کے لیے عام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حدیث زبان اور بیان کے ایک مثبت پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اچھی بات نثر میں ہو یا شعر میں، اگر وہ دانائی رکھتی ہے تو اس کی قدر کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ بات کو حدیث کے الفاظ سے آگے بڑھا کر غیر ضروری دعوے نہ بنائے جائیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بعض شعروں میں حکمت اور دانائی ہو سکتی ہے۔
  • ہر شعر کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ حدیث میں لفظ بعض آیا ہے۔
  • اچھی بات اگر شعر کے انداز میں ہو تو بھی فائدہ دے سکتی ہے۔
  • زبان کے استعمال میں خیر اور دانائی کو اہمیت دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں