صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۹ - عورتوں کے ساتھ نرمی
عورتوں کے ساتھ نرمی: شیشوں کو آہستہ لے چل
صحیح بخاری : ۶۱۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ وَمَعَهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ " ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَتَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلِمَةٍ لَوْ تَكَلَّمَ بِهَا بَعْضُكُمْ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ قَوْلُهُ : " سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ایک سفر کے موقع پر) اپنی عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں، ان کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہا انس کی والدہ بھی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس، انجشہ! شیشوں کو آہستگی سے لے چل۔ ابوقلابہ نے کہا کہ نبی کریم نے عورتوں سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں کوئی شخص استعمال کرے تو تم اس پر عیب جوئی کرو۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ شیشوں کو نرمی سے لے چل۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عورتوں کے ساتھ نرمی اور سفر میں احتیاط ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجشہ سے فرمایا: شیشوں کو آہستگی سے لے چل۔ حدیث کے متن میں عورتوں کے لیے شیشوں کا لفظ آیا، یعنی بہت نرمی اور خیال کے ساتھ معاملہ کرو۔ یہاں بات سفر کی ہے، جہاں عورتیں اونٹوں پر سوار تھیں اور حدی کی وجہ سے سواری تیز ہو سکتی تھی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفتار اور انداز میں نرمی کا حکم دیا۔ اس حدیث سے عام اصول اتنا ہی لیا جا سکتا ہے کہ کمزور یا حساس حالت میں موجود لوگوں کا خیال رکھا جائے۔ عورتوں کے ساتھ نرمی کی حدیث کا پیغام سخت لہجے یا بے احتیاطی کے بجائے خیال، سکون اور احتیاط ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں سوار لوگوں، خاص طور پر عورتوں، کا خیال رکھنا چاہیے۔
- بات سمجھانے کے لیے نرم اور بامعنی الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
- رفتار، آواز یا انداز سے کسی کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو احتیاط ضروری ہے۔
