صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۰ - حسان بن ثابت اور دفاعِ رسول

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دفاعِ رسول کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَيْفَ بِنَسَبِي " ، فَقَالَ حَسَّانُ : لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : " لَا تَسُبُّهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

عائشہ روایت:

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے (پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا)۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع دفاعِ رسول اور حق کے لیے زبان کا استعمال ہے۔ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان کے تعلق کا سوال کیا، کیونکہ مشرکین قریش میں آپ کا نسب بھی آتا تھا۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے ایسے الگ کر دوں گا جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے حسان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے سے منع کیا اور بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتے تھے۔ اس حدیث میں زبان کی طاقت، احتیاط اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا سبق ہے۔ دفاع رسول کی حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ جواب دیتے وقت بھی حد اور ادب ملحوظ رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حق کے دفاع میں زبان استعمال کی جا سکتی ہے جب مقصد درست ہو۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب اور احترام کا خیال رکھا گیا۔
  • کسی صحابی کے بارے میں بات کرتے وقت ان کی خدمت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں