صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۹ - قربانی کے اونٹ پر سوار ہونا
قربانی کے جانور پر ضرورت کے وقت سوار ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۹
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا، افسوس «ويلك» دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قربانی کے جانور، خاص طور پر قربانی کی اونٹنی پر سوار ہونے کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے لیے اونٹنی ہانک رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ آپ نے دوبارہ فرمایا: سوار ہو جاؤ۔ وہ پھر یہی کہتا رہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، تو آپ نے تیسری یا دوسری مرتبہ سخت لہجے میں فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔ اس حدیث سے متن کی حد تک یہ بات ملتی ہے کہ قربانی کا جانور ہونا ہر حال میں سواری سے مانع نہیں۔ قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کی حدیث میں آسانی اور ضرورت کا پہلو نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کا جانور ہونا سواری سے مطلقاً مانع نہیں سمجھا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم دیا تو بار بار عذر نہیں کرنا چاہیے۔
- دین میں ضرورت اور آسانی کا پہلو بھی موجود ہے۔
