صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۰ - بدنہ پر سوار ہونے کا حکم
بدنہ پر سوار ہونے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْهَا " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ، قَالَ : " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ " فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہو جا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۰ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی قربانی کے اونٹ یعنی بدنہ پر سوار ہونے کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہنکا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا کہ سوار ہو جاؤ۔ حدیث کا سادہ مطلب یہ ہے کہ آدمی صرف اس خیال سے کہ یہ قربانی کا جانور ہے، ہر حال میں سواری کو منع نہ سمجھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت بلکہ حکم دے دیا۔ بدنہ پر سوار ہونے کی حدیث ہمیں دینی آسانی اور حکم کی پیروی دونوں باتیں ایک ساتھ سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کی اجازت اس حدیث میں آئی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے بعد اپنا خیال بار بار پیش نہیں کرنا چاہیے۔
- دینی عمل میں آسانی کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
