صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۱ - انجشہ اور شیشوں کے ساتھ نرمی
انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ چلو
صحیح بخاری : ۶۱۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۶۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ : أَنْجَشَةُ يَحْدُو ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس «ويحك» اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نرمی، احتیاط اور دوسروں کے حال کا خیال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ انجشہ نامی حبشی غلام حدی پڑھ رہے تھے۔ حدی سے اونٹوں کی رفتار تیز ہو سکتی تھی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔ یہاں شیشوں سے مراد متن کے مطابق وہ عورتیں ہیں جو سواریوں پر تھیں۔ اس حدیث کا پیغام صرف اتنا نہیں کہ رفتار کم کرو، بلکہ یہ بھی ہے کہ جس کے ساتھ نرم معاملہ چاہیے، اس کے لیے انداز بھی نرم رکھا جائے۔ انجشہ والی حدیث اردو میں اکثر عورتوں کے ساتھ نرمی کی مثال کے طور پر تلاش کی جاتی ہے، مگر متن میں خاص موقع سفر کا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں سواری کی رفتار کا خیال رکھنا چاہیے۔
- عورتوں کے لیے نرمی اور احتیاط کا انداز اختیار کیا گیا۔
- حدی یا آواز سے جانور تیز چلیں تو سواروں کی حالت دیکھی جائے۔
