صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۸ - ام ہانی کی امان اور نماز چاشت

ام ہانی رضی اللہ عنہا کی امان اور نماز چاشت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ : ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ " ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ بْنُ هُبَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ " قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ : وَذَاكَ ضُحًى .

ام ہانی بنت ابی طالب روایت:

فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے۔ میں نے سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! مرحبا ہو۔جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی (علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاشت کی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع امان، عورت کی دی ہوئی پناہ، اور نماز چاشت ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ غسل فرما رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کیا ہوا تھا۔ آپ نے ام ہانی کو خوش آمدید کہا۔ غسل کے بعد آپ نے ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ پھر ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو امان دی ہے اور ان کے بھائی اسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے تم نے امان دی، اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی کی امان والی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دی ہوئی پناہ کو سنجیدگی سے لیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ام ہانی رضی اللہ عنہا کی دی ہوئی امان کو قبول کیا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کے بعد آٹھ رکعت نماز ادا کی۔
  • کسی کو پناہ دینے کے معاملے کو معمولی نہیں سمجھا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں