صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۷ - حائضہ عورت اور طواف افاضہ
حائضہ عورت اور طواف افاضہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۷
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ ، فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لِأَنَّهَا حَاضَتْ ، فَقَالَ : عَقْرَى حَلْقَى , لُغَةٌ لِقُرَيْشٍ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا ، ثُمَّ قَالَ : أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ، يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَانْفِرِي إِذًا " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج سے) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» (یہ قریش کا محاورہ ہے) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج، طواف افاضہ اور حیض کا مسئلہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپسی کا ارادہ رکھتے تھے۔ آپ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو خیمے کے دروازے پر رنجیدہ دیکھا، کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اب تم ہمیں روک لو گی؟ پھر پوچھا کہ کیا قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر چلو۔ اس متن سے صرف اتنا واضح ہے کہ اگر طواف افاضہ ہو چکا ہو تو اس حالت میں قافلے کی روانگی رکنے کی ضرورت نہیں رہی۔ حائضہ عورت اور طواف افاضہ کی حدیث میں دینی حکم پوچھ کر آگے بڑھنے کا انداز بہت صاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے معاملے میں طواف افاضہ کی حیثیت اہم ہے۔
- مسئلہ پیش آئے تو پہلے اصل عمل کے ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق کی گئی۔
- حکم معلوم ہونے کے بعد غیر ضروری رنج یا تاخیر باقی نہیں رکھی گئی۔
