صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۷ - تقدیر اور عمل

تقدیر اور عمل کی حدیث: عمل کرتے رہو، ہر ایک کو آسانی دی جائے گی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ الْأَرْضَ بِعُودٍ ، فَقَالَ : " لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ فُرِغَ مِنْ مَقْعَدِهِ مِنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ " ، فَقَالُوا : أَفَلَا نَتَّكِلُ . قَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى سورة الليل آية 5 " الْآيَةَ . .

علی روایت:

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کو آپ زمین پر مار رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔صحابہ نے عرض کیا: پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اس کو ویسی ہی توفیق دی جائے گی۔ جیسا کہ قرآن شریف کے سورۃ واللیل میں ہے «فأما من أعطى واتقى‏» ”جس نے للہ خیرات کی اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا“ آخر تک۔

صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور آپ اسے زمین پر مار رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا جنت یا دوزخ کا ٹھکانا طے نہ ہو چکا ہو۔ صحابہ نے پوچھا کہ پھر ہم اسی پر بھروسہ کیوں نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کرتے رہو، کیونکہ ہر شخص کو اسی کے لیے آسانی دی جائے گی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر سورہ واللیل کی آیت پڑھی۔ اس حدیث میں تقدیر کا ذکر ہے، مگر ساتھ ہی عمل چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تقدیر پر ایمان عمل چھوڑنے کا بہانہ نہیں بنتا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کو صاف فرمایا کہ عمل کرتے رہو۔
  • ہر شخص کو اس راستے کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
  • قرآن کی آیت کے ساتھ بات کو سمجھایا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں