حدیث ۶۲۵۶
صحیح بخاری : ۶۲۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۵۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَقَدْ قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ " .
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ «السام عليك.» (تمہیں موت آئے) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا «عليكم السام واللعنة.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» (اور تمہیں بھی)۔
