صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۸ - تین آدمیوں میں سرگوشی کا ادب
تین آدمیوں میں سرگوشی نہ کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۲۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۸۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةٌ ، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .
عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی (سرگوشی) نہ کریں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث سرگوشی کے آداب کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تین آدمی ساتھ ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر آپس میں کانا پھوسی نہ کریں۔ اس میں اصل خیال تیسرے آدمی کے دل کا ہے۔ اگر دو لوگ الگ ہو کر آہستہ بات کریں تو تیسرا شخص اپنے آپ کو الگ محسوس کر سکتا ہے، یا اسے یہ خیال آ سکتا ہے کہ شاید بات اسی کے بارے میں ہو رہی ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف ایک واضح سماجی ادب بتایا گیا ہے۔ آج بھی یہ بات مجلس، گھر، دفتر یا دوستوں کی بیٹھک میں بہت اہم ہے۔ سرگوشی کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمان کی گفتگو ایسی ہو جو ساتھ بیٹھے شخص کو بے وجہ پریشان نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین افراد کی مجلس میں دو لوگوں کو تیسرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- گفتگو کا انداز ایسا ہو کہ کسی ساتھی کو دکھ نہ پہنچے۔
- چھوٹی سی سرگوشی بھی دوسرے کے دل پر اثر ڈال سکتی ہے۔
- اسلام مجلس کے آداب میں احساس اور شائستگی سکھاتا ہے۔
