صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۰ - کانا پھوسی سے دل آزاری کا اندیشہ

کانا پھوسی سے بچنے کی حدیث اور مجلس کا ادب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۹۰

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً ، فَلَا يَتَنَاجَى رَجُلَانِ دُونَ الْآخَرِ حَتَّى تَخْتَلِطُوا بِالنَّاسِ أَجْلَ أَنْ يُحْزِنَهُ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی (سرگوشی) نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ لوگوں کو رنج ہو گا البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۲۹۰ کا خلاصہ

یہ حدیث سرگوشی کے ادب کو وجہ کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم لوگوں میں مل جاؤ، کیونکہ اس سے اسے رنج ہو گا۔ پچھلی روایت میں حکم مختصر تھا، یہاں وجہ بھی بیان ہو گئی کہ تیسرے آدمی کو دکھ یا پریشانی ہو سکتی ہے۔ اس حدیث کا مقصد گفتگو کو پاکیزہ اور مجلس کو آرام دہ رکھنا ہے۔ اگر کسی جگہ صرف تین افراد ہوں تو دو لوگوں کا آہستہ بات کرنا تیسرے کے دل میں شک یا تنہائی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے سرگوشی کی حدیث ہمیں دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کی عملی تربیت دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی کرنا اس کے لیے رنج کا سبب بن سکتا ہے۔
  • مجلس میں ہر شریک کے احساس کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • جب لوگ زیادہ ہوں تو صورت بدل سکتی ہے، جیسا کہ حدیث میں اشارہ ہے۔
  • اسلامی آداب گفتگو کو صاف اور دل آزاری سے دور رکھتے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں