صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۹ - راز کی حفاظت کا نبوی ادب
راز داری کی حدیث: امانت کو محفوظ رکھنا
صحیح بخاری : ۶۲۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۸۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : " سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی تھی اور میں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا (ان کی والدہ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث راز داری کی بڑی صاف مثال پیش کرتی ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک راز کی بات کہی، پھر انہوں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا۔ یہاں تک کہ ان کی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی پوچھا، مگر انہوں نے انہیں بھی نہ بتایا۔ اس حدیث میں راز کی حفاظت کو عمل سے دکھایا گیا ہے۔ عام زندگی میں لوگ کبھی کسی کی نجی بات سن کر آگے بتا دیتے ہیں، لیکن یہ روایت بتاتی ہے کہ راز امانت ہوتا ہے۔ جس شخص کو راز بتایا جائے، اسے اجازت کے بغیر ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حدیث بچوں، بڑوں، شاگردوں، دوستوں اور گھر والوں سب کے لیے سادہ مگر مضبوط سبق رکھتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس بات کو راز کہا جائے، اسے امانت سمجھنا چاہیے۔
- قریبی رشتہ دار کے پوچھنے پر بھی راز ظاہر نہ کرنا امانت داری ہے۔
- حضرت انس رضی اللہ عنہ نے عمل سے راز داری کا ادب سکھایا۔
- گفتگو میں اعتماد کی حفاظت ضروری ہے۔
