صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۳ - تعمیر اور دنیا سے بے رغبتی
سادگی اور تعمیر سے متعلق ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان
صحیح بخاری : ۶۳۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ ، وَلَا غَرَسْتُ نَخْلَةً مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ بَنَى ، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ : فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ .
ابن عمر روایت:
واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا۔ سفیان نے بیان کیا کہ جب میں نے اس کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھرانوں کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا پھر یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۳ کا خلاصہ
یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سادگی اور دنیاوی تعمیر سے متعلق ایک قول بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا۔ پھر سفیان رحمہ اللہ کے بیان میں آتا ہے کہ جب انہوں نے یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھر والوں کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان نے کہا کہ شاید ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی۔ اس حدیث میں اصل بات ایک صحابی کے بیان اور پھر راوی کی وضاحت ہے۔ اس سے سادگی، دنیاوی مشغولیت سے بچنے کا مزاج، اور روایت کو سمجھتے وقت تمام نقل شدہ باتوں کو ساتھ رکھنے کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان میں دنیاوی تعمیر سے احتیاط کا مزاج دکھائی دیتا ہے۔
- روایت میں بعد کی وضاحت کو بھی ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- حدیث کا متن نقل کرتے وقت راوی کی بات بھی اہم ہو سکتی ہے۔
- سادگی کا پہلو اس روایت میں نمایاں ہے۔
