صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۲ - ضرورت کے لیے گھر بنانا

ضرورت کے مطابق گھر بنانے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۲

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رَأَيْتُنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَيْتُ بِيَدِي بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ ، وَيُظِلُّنِي مِنَ الشَّمْسِ مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے ایک گھر بنایا تاکہ بارش سے حفاظت رہے اور دھوپ سے سایہ حاصل ہو اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے اس کام میں میری مدد نہیں کی۔ معلوم ہوا کہ ضرورت کے لائق گھر بنانا درست ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۲ کا خلاصہ

یہ حدیث رہائش اور ضرورت کے مطابق گھر بنانے کا ایک سادہ واقعہ بیان کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک گھر بنایا، جو انہیں بارش سے بچاتا اور دھوپ سے سایہ دیتا تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے اس کام میں ان کی مدد نہیں کی۔ اس روایت میں گھر بنانے کا مقصد صاف ہے: بارش سے حفاظت اور دھوپ سے سایہ۔ اسی لیے اس سے ضرورت کے لائق رہائش کا پہلو سمجھ آتا ہے۔ حدیث میں شان و شوکت، فخر یا غیر ضروری تعمیر کا ذکر نہیں۔ عام فہم بات یہ ہے کہ انسان اپنی بنیادی ضرورت کے لیے گھر بنائے تو یہ زندگی کی ایک جائز ضرورت کے طور پر سمجھ آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے لیے گھر بنانا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔
  • رہائش کا مقصد بارش اور دھوپ سے حفاظت بتایا گیا ہے۔
  • ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا ذکر کیا۔
  • حدیث میں سادگی اور ضرورت کا پہلو نمایاں ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں