صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۱ - غلط قسم اور جوا کی دعوت کا کفارہ

لات و عزیٰ کی قسم اور جوا سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۰۱

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ : بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَلْيَقُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ : تَعَالَ أُقَامِرْكَ ، فَلْيَتَصَدَّقْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم، تو پھر وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کر دینا چاہئے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۳۰۱ کا خلاصہ

یہ حدیث توحید، زبان کی حفاظت اور جوا سے بچنے کا واضح سبق دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قسم کھاتے ہوئے لات و عزیٰ کا نام لے، وہ لا إله إلا الله کہے۔ اس میں اصل بات یہ ہے کہ زبان سے نکلنے والی غلط قسم کو توحید کے کلمے سے درست کیا جائے۔ پھر فرمایا کہ جو اپنے ساتھی سے کہے آؤ جوا کھیلیں، اسے صدقہ کرنا چاہیے۔ یہاں جوا کھیلنے کی دعوت ہی پر صدقہ کی ہدایت دی گئی ہے۔ حدیث بہت صاف ہے: قسم میں اللہ کے سوا باطل ناموں سے بچنا، اور جوا کی طرف بلانے سے بھی بچنا۔ یہ روایت زبان، عقیدہ اور مال کے استعمال تینوں میں احتیاط سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قسم میں باطل معبودوں کا نام آ جائے تو لا إله إلا الله کہنا چاہیے۔
  • توحید کی حفاظت زبان سے بھی ہوتی ہے۔
  • جوا کی دعوت دینا بھی غلط رویہ ہے۔
  • ایسی غلطی پر صدقہ کرنے کی ہدایت حدیث میں آئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں