صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۵ - پریشانی کی دعا
پریشانی کی دعا: لا إله إلا الله العظيم الحليم
صحیح بخاری : ۶۳۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۴۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ ، يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب السموات والأرض، رب العرش العظيم» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کا رب ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پریشانی کی دعا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عظمت والا اور بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، اور بڑے عرش کا رب ہے۔ اس حدیث میں پریشانی کے وقت اللہ کی توحید، عظمت، حلم اور ربوبیت کا ذکر ہے۔ بندہ مشکل وقت میں اللہ کو اس کے بڑے ناموں اور صفات کے ساتھ یاد کرے۔ پریشانی کی دعا، کرب کی دعا، اور اللہ پر بھروسہ اس روایت کا مرکزی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پریشانی کے وقت اللہ کو یاد کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
- دعا میں توحید اور اللہ کی عظمت کا اقرار کیا جائے۔
- اللہ آسمانوں، زمین اور عرش عظیم کا رب ہے۔
- مشکل وقت میں بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔
