صحیح بخاری حدیث ۶۳۶ - اقامت سن کر سکون سے چلو
اقامت کے بعد نماز کے لیے آرام سے چلنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۶
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ وَلَا تُسْرِعُوا ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
ابوہریرہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تکبیر کی آواز سن لو تو نماز کے لیے (معمولی چال سے) چل پڑو۔ سکون اور وقار کو (بہرحال) پکڑے رکھو اور دوڑ کے مت آؤ۔ پھر نماز کا جو حصہ ملے اسے پڑھ لو، اور جو نہ مل سکے اسے بعد میں پورا کر لو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے آنے کا ادب بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ جب تم اقامت سنو تو نماز کے لیے چل پڑو، مگر سکون اور وقار کو لازم رکھو، جلدی نہ کرو۔ پھر جو نماز مل جائے اسے پڑھ لو، اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لو۔ یہ بات بہت عملی ہے۔ کبھی انسان اقامت سن کر گھبرا جاتا ہے اور تیز دوڑنے لگتا ہے، مگر حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ نماز کی طرف آتے ہوئے بھی نماز جیسا سکون ہونا چاہیے۔ مقصد صرف جلدی پہنچنا نہیں، بلکہ ادب کے ساتھ عبادت میں شامل ہونا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقامت سن کر نماز کے لیے سکون سے چلنا چاہیے۔
- نماز کے لیے جلدی میں دوڑنا منع کیا گیا۔
- جو حصہ مل جائے اسے جماعت کے ساتھ پڑھا جائے۔
- جو حصہ رہ جائے اسے نماز کے بعد پورا کیا جائے۔
