صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۲ - تکبیر کے بعد وقار سے چلنا
تکبیر کے بعد نماز کے لیے سکون اور وقار سے چلنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۳۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۶۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ . ح . قَالَ : وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ ، فَلَا يَسْعَ إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ ، وَلَكِنْ ، لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ ، وَالْوَقَارُ ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ہو تو تم میں سے کوئی دوڑ کر نہ چلے لیکن آہستہ چلے آرام سے اور وقار سے اور پڑھ جو تجھے ملے اور ادا کر جو تجھ سے آگے امام نے پڑھ لی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں سکون اور وقار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کی تکبیر ہو جائے تو کوئی شخص دوڑ کر نہ آئے، بلکہ آہستہ چلے، آرام کے ساتھ آئے اور وقار رکھے۔ یہ بات خاص طور پر اس وقت کام آتی ہے جب آدمی کو لگے کہ جماعت نکل رہی ہے یا رکعت چھوٹ جائے گی۔ حدیث بتاتی ہے کہ ایسے وقت بھی گھبرا کر بھاگنا درست انداز نہیں۔ جو نماز مل جائے اسے پڑھو، اور جو امام پہلے پڑھ چکا ہو اسے بعد میں ادا کرو۔ اس سے “اقامت کے بعد مسجد جانا”، “جماعت میں دیر سے شامل ہونا” اور “نماز میں سکینت” جیسے مسائل عام فہم انداز میں سمجھ آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقامت کے بعد بھی نماز کے لیے دوڑنا نہیں چاہیے۔
- نماز کی طرف جاتے ہوئے آرام اور وقار رکھا جائے۔
- امام کے ساتھ جو حصہ ملے وہ پڑھا جائے، باقی بعد میں ادا کیا جائے۔
