صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۱ - نماز کے لیے سکون سے آنا
نماز کے لیے سکون سے آنا: اذان کے بعد دوڑنے کے بجائے وقار
صحیح مسلم : ۱۳۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۶۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ ، فَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بہت سی احادیث میں سے ایک یہ بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اذان دی جائے تو چلتے ہوئے اور سکون کے ساتھ آؤ پس جو حصہ نماز کا تم پالو وہ پڑھ لو باقی بعد میں پورا کر لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے لیے سکون سے آنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو چلتے ہوئے آؤ اور سکینت اختیار کرو۔ اس میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ نماز صرف مسجد پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ نماز کی طرف آنے کا انداز بھی سنجیدہ اور پرسکون ہونا چاہیے۔ اگر جماعت شروع ہو چکی ہو تو گھبراہٹ کی ضرورت نہیں۔ جو حصہ مل جائے، اسے امام کے ساتھ پڑھ لیا جائے، اور جو حصہ رہ جائے، اسے بعد میں پورا کر لیا جائے۔ اس لیے “نماز کے لیے دوڑنا”، “اذان کے بعد مسجد جانا” اور “رکعت رہ جائے تو کیا کریں” جیسے سوالات کا جواب اسی حدیث میں بہت سادہ الفاظ میں ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کے بعد نماز کے لیے چل کر آنا چاہیے، دوڑنا نہیں۔
- جماعت میں جو رکعت مل جائے اسے امام کے ساتھ پڑھا جائے۔
- جو حصہ رہ جائے اسے نماز کے بعد پورا کیا جائے۔
