صحیح بخاری حدیث ۶۳۷ - امام کو دیکھے بغیر کھڑے نہ ہو
اقامت کے بعد کب کھڑا ہونا چاہیے؟ حدیث کی رہنمائی
صحیح بخاری : ۶۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۷
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي " .
ابوقتادہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کے بعد کھڑے ہونے کا ایک ادب بتایا۔ آپ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نکلتے ہوئے نہ دیکھ لو۔ حدیث کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ امام ابھی سامنے نہ آیا ہو۔ اس میں جلدی، بے ترتیبی اور غیر ضروری کھڑے رہنے سے بچنے کی بات سمجھ آتی ہے۔ نماز جماعت میں نظم ضروری ہے، مگر وہ نظم امام کے آنے اور صفوں کے تیار ہونے کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت میں امام کی آمد کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اقامت کے بعد امام کے آنے کا انتظار کیا جائے۔
- بلا ضرورت پہلے سے کھڑے رہنے کی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔
- جماعت کی نماز میں ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو آسان ادب سکھایا۔
