صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۵ - اقامت کے بعد کھڑا ہونا

اقامت کے بعد کب کھڑا ہونا چاہیے؟ نماز کے نظم کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۶۵

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا تَقُومُوا ، حَتَّى تَرَوْنِي " . وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : إِذَا أُقِيمَتْ أَوْ نُودِيَ .

ابوقتادہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ہو تو کھڑے نہ ہو جب تک مجھے نہ دیکھ لو۔“ ابن حاتم نے شک کیا کہ ( «إِذَا أُقِيمَتْ» ہے یا «نُودِىَ»)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اقامت کے بعد کھڑا ہونا ہے۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی تکبیر ہو تو کھڑے نہ ہو، یہاں تک کہ مجھے دیکھ لو۔ اس حدیث میں نماز کی جماعت کے نظم کا ایک سادہ پہلو سامنے آتا ہے۔ لوگ اقامت کے فوراً بعد اپنی طرف سے جلدی نہ کریں، بلکہ امام کے آنے اور سامنے ہونے کا انتظار کریں۔ متن میں ابن حاتم کے شک کا ذکر بھی ہے کہ لفظ “اقامت” ہے یا “ندا”، مگر اصل بات یہی ہے کہ نماز کے آغاز میں ترتیب اور انتظار کا خیال رکھا جائے۔ “اقامت کے بعد کب کھڑے ہوں” اور “امام کے آنے کا انتظار” اس حدیث کے اصل سرچ موضوعات ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اقامت کے بعد کھڑے ہونے میں امام کے آنے کا خیال رکھا جائے۔
  • نماز کے شروع میں نظم اور انتظار بھی ادب کا حصہ ہے۔
  • متن میں لفظ کے بارے میں راوی کا شک امانت سے نقل کیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں