صحیح مسلم حدیث ۱۳۷۰ - اذان اور اقامت
اذان اور اقامت کا وقت: بلالؓ کی روایت سے نماز کا نظم
صحیح مسلم : ۱۳۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۷۰
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ بِلَالٌ ، " يُؤَذِّنُ إِذَا دَحَضَتْ ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا خَرَجَ ، أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ " .
جابر روایت:
بلال رضی اللہ عنہ جب زوال ہوتا اذان دیتے اور اقامت نہ کہتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور بلال رضی اللہ عنہ دیکھ لیتے تب تکبیر کہتے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اذان اور اقامت ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ زوال کے وقت اذان دیتے تھے، مگر اقامت اس وقت تک نہیں کہتے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لے آتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو دیکھ لیتے تو پھر اقامت کہتے۔ اس حدیث میں اذان اور اقامت کے درمیان فرق صاف نظر آتا ہے۔ اذان وقت کی خبر دیتی ہے، جبکہ اقامت نماز کھڑی ہونے سے جڑی ہے۔ یہاں “اذان اور اقامت میں فرق”، “اقامت کب کہی جائے” اور “بلال رضی اللہ عنہ کی اذان” جیسے موضوعات اسی متن سے بنتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان زوال کے وقت دی جاتی تھی، جیسا کہ روایت میں آیا ہے۔
- اقامت نبی صلى الله عليه وسلم کے تشریف لانے کے بعد کہی جاتی تھی۔
- اذان اور اقامت کے عمل میں نظم اور امام کا انتظار شامل تھا۔
