حدیث ۱۳۸۰
صحیح مسلم : ۱۳۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۰
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ ، أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بِهَذَا أُمِرْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ : انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةُ ، أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ ، فَقَالَ عُرْوَةُ : كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ .
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن نماز عصر میں دیر کی سو ان کے پاس عروہ بن زبیر آئے اور خبر دی کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن نماز میں دیر کی تھی کوفہ میں تو ان کے پاس ابومسعود انصاری آئے اور کہا کہ اے مغیرہ! تم نے یہ کیا کیا؟ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ جبرئیل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر نماز پڑھی اور آپ نے بھی نماز پڑھی، پھر نماز پڑھی اور آپ نے بھی پڑھی، پھر پڑھی انہوں نے اور آپ نے بھی پڑھی، پھر پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑھی۔ پھر فرمایا جبرئیل علیہ السلام نے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی حکم ہوا ہے (یعنی باوجود اس اہتمام کے رب جلیل نے بانزال جبرئیل علیہ السلام اوقات نماز تعلیم فرمائے پھر تم اس میں تاخیر کیوں کرتے ہو) تب کہا عمران بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہ اے عروہ! تم کیا کہتے ہو کیا جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اوقات نماز تعلیم فرمائے۔ عروہ نے کہا: ہاں ایسے ہی بشیر بن ابی مسعود اپنے باپ سے روایت کرتے تھے۔
