صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۱ - نماز عصر کا وقت اور نبی صلى الله عليه وسلم کا معمول
نماز عصر کا وقت: دھوپ باقی ہو تو نماز ادا کرنا
صحیح مسلم : ۱۳۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۸۱
قَالَ عُرْوَةُ : وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ يُصَليِّ الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا ، قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ دھوپ ان کے آنگن میں ہوتی تھی دیوار پر چڑھنے نہ پاتی تھی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۸۱ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان سے نماز عصر کا وقت سمجھ آتا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے جب دھوپ ابھی ان کے آنگن میں ہوتی تھی اور دیوار پر اوپر نہیں چڑھی ہوتی تھی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عصر کی نماز کو بہت دیر تک مؤخر کرنا آپ صلى الله عليه وسلم کا معمول نہیں تھا۔ عام فہم بات یہ ہے کہ نماز عصر کا وقت آتے ہی اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ حدیث خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو “نماز عصر کا وقت” یا “عصر کی نماز کی حدیث” تلاش کرتے ہیں۔ روایت صرف اتنا بتاتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم عصر پڑھتے اور دھوپ ابھی موجود رہتی، اس لیے اسی حد تک بات رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے جب دھوپ ابھی باقی ہوتی تھی۔
- نماز کے وقت کو پہچاننے میں سورج اور سایہ ایک عملی علامت بن سکتے ہیں۔
- عصر کی نماز کو اتنا مؤخر نہ کیا جائے کہ دھوپ کا حال بدل جائے۔
