صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۴ - سکون سے نماز کو آنا
نماز کے لیے سکون سے آنا: ایک ہی تعلیم کی دوسری سند
صحیح مسلم : ۱۳۶۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۶۴
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ .
اس سند کے ساتھ سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز کے لیے سکون سے آنا ہے۔ اس روایت میں مختصر طور پر بتایا گیا ہے کہ اسی سند کے ساتھ مذکورہ روایت آئی ہے۔ چونکہ متن پچھلی روایت سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کا پیغام بھی وہی ہے: نماز کی طرف آتے ہوئے جلد بازی، شور یا گھبراہٹ کے بجائے سکون اختیار کیا جائے۔ اگر جماعت شروع ہو چکی ہو تو آدمی جو حصہ پائے، اسے پڑھ لے، اور جو حصہ رہ جائے اسے بعد میں مکمل کرے۔ اس طرح “نماز کے لیے سکون سے آنا”، “جماعت میں دیر سے آنا” اور “باقی رکعت پوری کرنا” جیسے موضوعات اسی روایت کے دائرے میں آتے ہیں۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ نماز کی تیاری میں بدن کا ادب بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختصر سند والی روایت بھی سابقہ تعلیم کی تائید کرتی ہے۔
- نماز کے لیے سکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ آنا چاہیے۔
- جماعت کا جو حصہ رہ جائے اسے بعد میں پورا کیا جاتا ہے۔
