صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۵ - دل کی پاکی اور فتنوں سے پناہ
دل کی پاکی، گناہوں سے دوری اور فتنوں سے پناہ
صحیح بخاری : ۶۳۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۷۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ ، وَالْهَرَمِ ، وَالْمَغْرَمِ ، وَالْمَأْثَمِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ النَّارِ ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہا «اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم، اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وعذاب القبر، وشر فتنة الغنى، وشر فتنة الفقر، ومن شر فتنة المسيح الدجال، اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد، ونق قلبي من الخطايا، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے، ناکارہ عمر سے، بڑھاپے سے، قرض سے اور گناہ سے۔اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے، دوزخ کی آزمائش سے، قبر کے عذاب سے، مالداری کی بری آزمائش سے، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اس دعا میں سستی، ناکارہ عمر، بڑھاپا، قرض، گناہ، دوزخ کے عذاب، دوزخ کی آزمائش، قبر کے عذاب، مالداری کی بری آزمائش، محتاجی کی بری آزمائش، اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے پناہ مانگی گئی ہے۔ پھر اللہ سے گناہوں کو دھونے، دل کو خطاؤں سے پاک کرنے، اور گناہوں سے دوری کی دعا کی گئی ہے۔ اس حدیث میں دل کی پاکی کی دعا بہت نمایاں ہے۔ بندہ اللہ سے کہتا ہے کہ میرے گناہوں کو دور کر دے، میرے دل کو صاف کر دے، اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان مشرق و مغرب جیسا فاصلہ کر دے۔ یہ دعا انسان کو ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل کی پاکی اور گناہوں سے دوری اللہ سے مانگنی چاہیے۔
- قرض، گناہ اور سستی سے پناہ مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں آیا ہے۔
- قبر، آگ، مالداری، محتاجی اور دجال کے فتنوں سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- دعا میں انسان اپنی اصلاح اور حفاظت دونوں مانگ سکتا ہے۔
