صحیح بخاری حدیث ۶۳۹۵ - سلام کے جواب میں نرمی

نرمی کی حدیث: سخت بات کا جواب کیسے دیں؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۹۵

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُونَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ ، فَقَالَتْ : عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَهْلًا يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ " ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ ؟ ، قَالَ : " أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ " .

عائشہ روایت:

یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو کہتے «السام عليك‏.‏» آپ کو موت آئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ «عليكم السام واللعنة‏.‏» تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں «وعليكم»۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں یہود کے ایک انداز کا ذکر ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کے بجائے ایسے الفاظ کہتے جن کا مطلب بددعا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا مقصد سمجھ لیا اور سخت جواب دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روکا اور فرمایا کہ اللہ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ کیا آپ نے ان کی بات نہیں سنی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں وعليكم کہا۔ اس حدیث کا اصل سبق یہ ہے کہ جواب دیتے وقت زبان قابو میں رکھی جائے، سختی کے مقابلے میں بھی نرمی اختیار کی جائے، اور غیر ضروری بدکلامی سے بچا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سخت بات کے جواب میں بھی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • اللہ تعالیٰ نرمی کو پسند فرماتا ہے۔
  • غصے میں بدکلامی سے بچنا چاہیے۔
  • مختصر اور مناسب جواب دینا بہتر ہو سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں