صحیح بخاری حدیث ۶۴۳ - نماز سے پہلے گفتگو
اقامت کے بعد بات کرنے کی اجازت
صحیح بخاری : ۶۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَعَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ " .
حمید طویل روایت:
میں نے ثابت بنانی سے ایک شخص کے متعلق مسئلہ دریافت کیا جو نماز کے لیے تکبیر ہونے کے بعد گفتگو کرتا رہے۔ اس پر انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ تکبیر ہو چکی تھی۔ اتنے میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں ملا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے تکبیر کہی جانے کے بعد بھی روکے رکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۳ کا خلاصہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق ایک شخص نے اقامت کے بعد نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو روک لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی ضروری معاملہ ہو تو مختصر گفتگو کی جا سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت اہم ہو تو گفتگو ہو سکتی ہے۔
- نماز کی تیاری برقرار رہے۔
- دینی رہنمائی کو اہمیت دی جائے۔
