صحیح مسلم حدیث ۳۷۷ - مسلمانوں کی گنتی اور آزمائش کا اندیشہ
کثرت کے باوجود آزمائش سے غافل نہ ہوں
صحیح مسلم : ۳۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، اللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الإِسْلَامَ ؟ قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبْعِ مِائَةِ ؟ قَالَ : " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا ، قَالَ : فَابْتُلِيَنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا " .
حذیفہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گنو کتنے آدمی اسلام کے قائل ہیں۔“ پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ڈرتے ہیں ہم پر (کوئی آفت آنے سے دشمنوں کی وجہ سے) اور ہم چھ سو آدمیوں سے لے کر سات سو تک ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے شاید بلا میں پڑ جاؤ۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ایسا ہی ہوا ہم بلا میں پڑ گئے، یہاں تک کہ بعض ہم میں سے نماز بھی چپکے سے پڑھتے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۷۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمانوں کی تعداد اور آزمائش کے بارے میں ایک اہم واقعہ بیان کرتی ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے گنو کہ کتنے لوگ اسلام کے قائل ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ کو ہمارے بارے میں خوف ہے، جبکہ ہم چھ سو سے سات سو تک ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، شاید تم آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایسا ہوا، یہاں تک کہ بعض لوگ نماز بھی چھپ کر پڑھتے تھے۔ اس حدیث میں تعداد پر بھروسہ نہ کرنے، حالات بدلنے، اور عبادت کی حفاظت کا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کثرت ہمیشہ حفاظت کی ضمانت نہیں ہوتی۔
- آزمائش اچانک آ سکتی ہے۔
- نماز کو مشکل حالات میں بھی اہم رکھا گیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے امت کے حالات پر پہلے سے تنبیہ فرمائی۔
