صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۸ - اللہ کی رضا کے لیے ہجرت

اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی حدیث اور صحابہ کی قربانی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۴۸

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : عُدْنَا خَبَّابًا ، فَقَالَ " هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْخُذْ مِنْ أَجْرِهِ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً ، فَإِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْإِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا " .

خباب بن ارت روایت:

ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی۔ چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا۔ پس ہم میں سے کوئی تو گزر گیا اور اپنا اجر (اس دنیا میں) نہیں لیا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (انہی) میں سے تھے، وہ جنگ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے اور ایک چادر چھوڑی تھی (اس چادر کا ان کو کفن دیا گیا تھا) اس چادر سے ہم اگر ان کا سر ڈھکتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں اور کوئی ہم میں سے ایسے ہوئے جن کے پھل خوب پکے اور وہ مزے سے چن چن کر کھا رہے ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اپنے زمانے کی قربانی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی، اس لیے ہمارا اجر اللہ کے ذمہ رہا۔ پھر مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا ذکر آتا ہے جو احد کے دن شہید ہوئے۔ ان کے پاس کفن کے لیے صرف ایک چادر تھی، سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سر ڈھانپ دیا جائے اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دی جائے۔ یہ حدیث ہجرت، اخلاص اور قربانی کی صاف مثال ہے۔ اس میں دنیاوی کمی کو بڑھا چڑھا کر نہیں، بلکہ حقیقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا عمل بہت بڑی نیت رکھتا ہے۔
  • صحابہ نے دین کے لیے حقیقی تنگی اور قربانی برداشت کی۔
  • دنیاوی کمی کسی شخص کی دینی قدر کو کم نہیں کرتی۔
  • نیکی کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں