صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۰ - صبر اور خودداری
صبر کی حدیث: سوال سے بچنا اور دل کی بے نیازی
صحیح بخاری : ۶۴۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ : أَنَّ أُنَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَسْأَلْهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى نَفِدَ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ حِينَ نَفِدَ كُلُّ شَيْءٍ : " أَنْفَقَ بِيَدَيْهِ مَا يَكُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ لَا أَدَّخِرْهُ عَنْكُمْ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَلَنْ تُعْطَوْا عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ " .
ابوسعید روایت:
چند انصاری صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا اور جس نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیا، یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا۔جب سب کچھ ختم ہو گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی اچھی چیز میرے پاس ہو گی میں اسے تم سے بچا کے نہیں رکھتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جو تم میں (سوال سے) بچتا رہے گا اللہ بھی اسے غیب سے دے گا اور جو شخص دل پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ بھی اسے صبر دے گا اور جو بےپرواہ رہنا اختیار کرے گا اللہ بھی اسے بےپرواہ کر دے گا اور اللہ کی کوئی نعمت صبر سے بڑھ کر تم کو نہیں ملی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث صبر، خودداری اور قناعت کا مضبوط سبق دیتی ہے۔ چند انصاری صحابہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے مانگا، آپ صلى الله عليه وسلم نے جس نے مانگا اسے دیا، یہاں تک کہ جو کچھ پاس تھا ختم ہو گیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جو اچھی چیز ہو گی، میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا۔ اس کے بعد اصل پیغام دیا: جو سوال سے بچے گا اللہ اسے بچائے گا، جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صبر دے گا، اور جو بے نیاز رہنا چاہے گا اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔ پھر فرمایا کہ تمہیں صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔ اس حدیث میں صبر کو عملی کوشش کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوال سے بچنے کی کوشش بندے کے لیے بھلائی کا سبب ہے۔
- صبر ایک عطیہ ہے، مگر اس کے لیے بندہ کوشش بھی کرتا ہے۔
- دل کی بے نیازی مال کی کثرت سے الگ چیز ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے پاس کی خیر روک کر نہیں رکھتے تھے۔
