صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۱ - شکر گزاری اور نماز

شکر گزار بندہ: نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز اور شکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۱

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ أَوْ تَنْتَفِخَ قَدَمَاهُ ، فَيُقَالُ لَهُ ، فَيَقُولُ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .

مغیرہ بن شعبہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ کے قدموں میں ورم آ جاتا یا کہا کہ آپ کے قدم پھول جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ آپ تو بخشے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع شکر گزاری ہے۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے قدموں میں ورم آ جاتا یا قدم پھول جاتے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا جاتا کہ آپ تو بخشے ہوئے ہیں، تو آپ صلى الله عليه وسلم فرماتے: کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اس حدیث سے عبادت کا ایک صاف مقصد سمجھ آتا ہے: شکر۔ نماز صرف مانگنے کا نام نہیں، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا راستہ بھی ہے۔ یہاں کسی اضافی حکم کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں؛ حدیث خود بتاتی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی عبادت اللہ کے شکر سے جڑی ہوئی تھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبادت اللہ کے شکر کا ذریعہ ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم بخشش کے باوجود شکر میں نماز پڑھتے تھے۔
  • نعمت ملنے کے بعد شکر اور بڑھنا چاہیے۔
  • نماز بندے کو شکر گزار بناتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں