صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۲ - توکل اور بے حساب جنت
توکل علی اللہ کی حدیث: ستر ہزار بے حساب جنت میں
صحیح بخاری : ۶۴۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۲
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، فَقَالَ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۲ کا خلاصہ
یہ حدیث توکل علی اللہ کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے۔ پھر ان کی صفات بیان فرمائیں: وہ جھاڑ پھونک نہیں کراتے، شگون نہیں لیتے، اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ اس حدیث میں اصل زور اللہ پر اعتماد پر ہے۔ بندہ اپنے دل کو وہم، بدشگونی اور غیر ضروری سہاروں سے بچائے، اور اللہ پر بھروسہ رکھے۔ اس متن میں یہی بات آئی ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔ حدیث علاج کے تمام مسائل نہیں کھولتی، بلکہ خاص طور پر ان لوگوں کی صفت بیان کرتی ہے جن کا دل رب پر مضبوط اعتماد رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توکل اللہ پر مضبوط بھروسے کا نام ہے۔
- بدشگونی سے بچنا ایمان والے رویے کا حصہ ہے۔
- بے حساب جنت والوں کی صفات حدیث میں واضح بیان ہوئی ہیں۔
- دل کا سہارا رب ہی کو بنانا چاہیے۔
