صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۱ - ہر انسان کی اپنی قیامت
اپنی قیامت یعنی موت: قیامت کب آئے گی؟
صحیح بخاری : ۶۵۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۱۱
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ ، فَيَقُولُ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " ، قَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي مَوْتَهُمْ .
عائشہ روایت:
چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد (قیامت سے) ان کی موت تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۵۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قیامت کے سوال اور انسان کی اپنی موت ہے۔ چند بدوی لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور پوچھتے کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سب سے کم عمر شخص کو دیکھ کر فرماتے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی۔ حدیث کے راوی ہشام نے وضاحت کی کہ اس سے مراد ان لوگوں کی موت تھی۔ اس حدیث میں قیامت کی تاریخ بتانے کے بجائے انسان کو اس کے قریب ترین انجام کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ ہر شخص کے لیے موت ایک بڑی حقیقت ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ قیامت کب آئے گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی موت سے پہلے کیا تیاری کر رہے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے وقت کی کھوج سے زیادہ اپنی موت کی تیاری اہم ہے۔
- ہر انسان کی موت اس کے لیے ایک بڑا مرحلہ ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کو عملی یاد دہانی میں بدل دیا۔
- حدیث غفلت کے بجائے تیاری کا پیغام دیتی ہے۔
