صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۶ - قیامت کے دن حشر اور بدعت سے بچنے کی حدیث

قیامت کے دن حشر: ننگے پاؤں اٹھائے جانے اور بدعت سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۵۲۶

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَخْطُبُ فَقَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 الْآيَةَ ، وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ ، فَأَقُولُ يَا رَبِّ : أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ : وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ إِلَى قَوْلِهِ : الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 ، قَالَ : فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «كما بدأنا أول خلق نعيده» کہ ”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے۔“ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» کہ ”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے (مرتد ہوتے رہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۵۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع قیامت کے دن حشر اور نبی صلى الله عليه وسلم کے بعد دین میں نئے کام نکالنے کا خطرہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور اسی طرح اٹھائے جائیں گے جیسے پہلی بار پیدا کیے گئے تھے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ پھر امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ نبی صلى الله عليه وسلم ان کے بارے میں عرض کریں گے کہ یہ میرے ساتھی ہیں، مگر جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔ یہ قیامت کی حدیث ہمیں اپنے عمل، انجام اور دین پر قائم رہنے کے بارے میں سنجیدہ کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن انسان اسی حال میں اٹھایا جائے گا جیسے حدیث میں بیان ہوا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے بعد دین میں نئی باتیں نکالنا سخت خطرے کی بات ہے۔
  • صرف نسبت کافی نہیں، اصل اہمیت دین پر ثابت رہنے کی ہے۔
  • اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملنا سخت انجام کی علامت بتایا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں